woman-gardening 50

باغبانی

دنیا کی تمام ثقافتوں میں باغ باغیچوں کو تاریخی اہمیت حاصل ہے اس لیے کہ درختوں پھلوں پھولوں اور ہریالی سے انسان کا روحانی رشتہ ہے اور فطرت نے کرہارض کو یہ دولت اتنی فراخدلی سے بخشی ہے کہ زمین کا وسیع حصہ قدرت کی ان نعمتوں سے مالا مال ہے جو اللہ تعالیٰ نے درختوں اورپھولوں کی صورت میں ہمیں عطا کی ہے،باغوں کی فضیلت اور برکت کو اللہ تعالیٰ نے فارغ البالی کی بشارت کا نام دیا ہے اور فارغ بنی نوع انسان ہر قدرت کے احسانات بھی شامل ہیں تہذیبوں کی ترقی میں بھی باغوں کی تعمیر سرفہرست ہے کئی ہزار سال پہلے کی تاریخ میں اکثر باغات کا ذکر ملتاہے عراق میں سات ہزار سال قبل از مسیح ایسے باغات موجود تھے جہاں صرف کھجور کی کاشت ہوتی تھی اسی طرح انار آڑو اور بادام کے درختوں کے بھی باغات تین چار ہزار سال پہلے موجود تھے چین میں صدیوں پہلے دنیا کے خوبصورت ترین باغ پائے جاتے تھے اور لیچی کا پودا صدیوں پہلے چین سے ہی دوسرے ملکوں میں پہنچا۔

برصغیر پاک وہند میں ویدوں کے زمانے میں تاریخی باغوں کا ایک سلسلہ موجود تھا اور آریہ نسل کی آمد سے پہلے دراوڑی تہذیب کے نقوش میں بھی باغوں کا حسن شامل ہے پھر مغل بادشاہوں نے جہاں بڑے بڑے خوبصورت باغ لگوائے جن کی زیب و زینب ی نظیر اور کہیں نہیں ملتی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے باغبانی کے فن میں نمایاں خدمات سر انجام دیں ہیں مغرب و مشرق میں جگہ جگہ مسلمانوں کے ذوق باغبانی کے روشن ثبوت موجود ہے برصغیر پاک و ہند اور ہسپانیہ کی تاریخی عمارات اپنے حسین اور دلکشی باغوں کی بدولت آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہیں پاکستان کے کئی معروف شہر اپنے قدیم و جدید باغوں کی شہرت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں،انسان اور باغ کا رشتہ اٹوٹ ہے باغ ہمیں جسمانی اور ذہنی تازگی دیتے ہیں اور باغ باغیچہ ہماری روحانی ضرورت ہے یوں بھی ہمارے وطن کی آب و ہوا گرم مرطوب ہے اور باغ باغیچے گرم مرطوب آب و ہوا سے ہماری حفاظت کرتے ہیں اگرچہ شہروں میں بڑے بڑے پارک تفریح گاہیں اور باغات موجود ہیں لیکن زمانے کی تیز رفتار سرگرمیوں اور انسان کی سماجی و معاشی مصروفیات کے ہجوم میں روزانہ ان باغوں کی سیر کرنا ممکن نہیں رہا شہر صنعتی ترقی کے باعث پھیلے جارہے ہیں اوت دور دور تک آبادیوں کے پھیلاﺅ کی وجہ سے انسانوں کا باغوں سے تو رشتہ ٹوٹتا جارہا ہے لیکن اس کا پھولوں اور درختوں سے قدرتی تعلق لازوال ہے اس لیے ہم گھروں مکانوں کوٹھیوں اور بنگلوں میں باغ باغیچے کا اہتمام ضرور کرتے ہیں ایسے مکانات بنائے جاتے ہیں جہاں صحن اور دلان کی گنجائش رکھی جاتی ہے تاکہ کھلی فضا سے ہمارا رابطہ قائم رہے اس کے علاوہ جدید طرز کی کوٹھیوں اور بنگلوں میں بھی اندرونی صحن کے علاوہ چاروں طرف لان بنائے جاتے ہیں جہاں پھلدار درخت پھولوں سے بھری ہوئی کیاریوں اور سر سبز قطعے بنائے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں