fbr 29

ایف بی آر نے یو اے ای سے اقامہ رکھنے والے پاکستانیوں کے کوائف مانگ لیے

ایف بی آر نے اقامہ رکھنے والوں پاکستانیوں کی معلومات لینے کیلئے متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ کو خط لکھا ہے۔

خط کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے اب تک مہیا کی گئی معلومات ناکافی اور ٹھوس نہیں ہیں۔

یو اے ای میں جائیدادیں؛ جن شہریوں کو نوٹس بھیجے جائیں گے ان کی فہرست سامنے آگئی

خط میں لکھا ہے کہ رپورٹ میں 3620 اکاؤنٹس کے بارے میں بتایا گیا ہے، ان اکاؤنٹس میں بتایا گیا بیلنس بھی بہت کم ہے اور یہ بیلنس ہماری توقعات کے برخلاف اور ناکافی ہے۔

ایف بی آر نے مزید کہا کہ اگر کوئی پاکستانی قانونی طور پر امارات میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

ایف بی آر کی ایک ٹیم اگلے ماہ متحدہ عرب امارات بھی جائے گی جہاں متعلقہ حکام سے ڈیٹا شیئرنگ کیلئے مذاکرات کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں جائیدادیں بنانے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

جیو نیوز کی اسپیشل رپورٹ کے مطابق دبئی میں موجود پاکستانیوں کی 2750 چھپی ہوئی جائیدادیں مختلف ناموں پر ہیں جن کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں۔

اگر ہر پراپرٹی کا تخمینہ 4 کروڑ روپے بھی لگایا جائے تو ایف آئی اے کے پاس زیرتفتیش متحدہ عرب امارات میں موجود اثاثوں کی قیمت 110 ارب روپے بنتی ہے۔

ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن ونگ نے 3 ہزار 549 میں سے 662 جائیدادوں کے مالکوں کے خلاف 54 فوجداری انکوائریز شروع کردی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں