Modern vehicles easy to steal 44

جدید گاڑیاں چوری ہونے میں آسان

ماہرین کے مطابق کچھ جدید ترین اور انتہائی مقبول گاڑیاں چابی کی ضرورت ختم کر دینے والے ’کی لیس انٹری سسٹمز‘ میں موجود خامیوں کا استحصال کر کے سیکنڈوں میں چرائی جا سکتی ہیں۔ برطانیہ کے ’واٹ کار؟‘ میگزین نے کی لیس انٹری اور سٹارٹ سسٹم والی سات مختلف ماڈلز کو آزمایا۔ ایک ڈی ایس 3 کراس بیک اور آؤڈی ٹی ٹی آر ایس کو 10 سیکنڈ میں چرا لیا گیا جبکہ لینڈ روور ڈسکوری سپورٹ کو کھولنے میں اس سے زیادہ وقت لگا مگر صرف 20 سیکنڈ زیادہ، یعنی کْل 30 سیکنڈ۔

’واٹ کار‘ کے سکیورٹی ماہرین نے اسی خصوصی ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیسٹ کیے جنھیں چور استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے ان ٹیسٹس میں گاڑیوں کے اندر داخل ہونے اور انھیں چلا کر لے جانے میں لگنے والے وقت کی پیمائش کی۔ انگلینڈ اور ویلز میں گاڑیوں کی چوری کی شرح آٹھ سالوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ صرف 2018 میں ایک لاکھ چھ ہزار گاڑیاں چرائی گئیں۔ نتیجتاً برطانیہ میں 2019 کی شروعات پر گاڑیوں کی چوری پر انشورنس کی مد میں ادائیگیاں سات سالوں کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

برطانوی انشورنس کمپنیوں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف برٹش انشوررز کا کہنا ہے کہ جنوری سے لے کر مارچ کے دوران انشورنس دعوے 2012 سے اب تک کسی بھی سہہ ماہی سے زیادہ تھے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ چابی کے بغیر والی گاڑیوں کی چوری پر کچھ الزام جاتا ہے مگر ان کے پاس اعداد و شمار نہیں تھے کہ چوری ہونے والی گاڑیوں میں سے کتنی ’کی لیس‘ تھیں۔

آڈی گاڑیاں بنانے والی کمپنی واکس ویگن گروپ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اپنی ’مسلسل جاری‘ کوششوں کے تحت پولیس اور انشورنس کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔

ڈی ایس گاڑیاں بنانے والی کمپنی پی ایس اے گروپ نے واٹ کار؟ کو بتایا کہ اس کے پاس ایک ٹیم مخصوص ہے جس کا کام ممکنہ سیکیورٹی خامیوں سے نمٹنا اور ’چوری کے طریقوں کے تجزیوں‘ کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیلر جدید ترین گاڑیوں میں مالک کی درخواست پر کی لیس انٹری سسٹم غیر فعال کر سکتے ہیں۔

جیگوار لینڈ روور نے کہا کہ: ’ٹیسٹ کیا گیا ڈسکوری سپورٹ اب تیار نہیں کیا جاتا۔ فی الوقت جو ڈسکوری سپورٹ ماڈل تیار کیا جا رہا ہے اس میں ریلے اٹیک روکنے کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہماری تمام گاڑیوں میں’اِن کنٹرول‘ ٹریکنگ ڈیوائس نصب ہیں جن کے ذریعے 80 فیصد سے زائد معاملات میں گاڑی کی تلاش میں کامیابی ہوتی ہے۔‘

گاڑی کی چوری جس نے چھٹیاں تقریباً برباد کر دی تھیں

برطانیہ کے علاقے ساؤتھ ویلز کے شہر نیو پورٹ کے رہائشی سٹیفن سیویگر اپنی اہلیہ اور دو دوستوں کے ساتھ ہیتھرو ایئرپورٹ جا رہے تھے جب وہ کی لیس گاڑی کی چوری کا نشانہ بنے۔ دونوں جوڑے ان کی اہلیہ اور اہلیہ کے دوست کی ساٹھویں سالگرہ منانے کے لیے سنگاپور جا رہے تھے جہاں انھیں ایک کروز جہاز کا سفر کرنا تھا۔

چوروں نے ان کی گاڑی کو تب اپنا ہدف بنایا جب وہ ایک موٹروے پر ٹوائلٹ جانے کے لیے رکے تھے۔ سیویگر کی فورڈ مونڈیو چوری تو نہیں ہو سکی مگر چور ان کی گاڑی سے کچھ ایسا لے گئے جس سے ان کی چھٹیاں تقریباً برباد ہوگئیں۔

’جب ہم اندر تھے تو چوروں نے ہماری گاڑی کا لاکنگ سسٹم جام کر دیا۔ انھوں نے میرا سفری بیگ چرا لیا جس میں میری بیوی کا اور میرا پاسپورٹ، ہماری عینکیں اور ہمارا آئی پیڈ تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم پرواز نہیں کر سکتے تھے۔ مگر پھر بھی ہم نے اپنے دوستوں کو ایئرپورٹ چھوڑا اور انھیں الوداع کہا۔ ایئرپورٹ پر میری بیوی بے ہوش ہوگئی کیونکہ ہم بہت بری حالت میں تھے۔‘

یہ جوڑا گھر گیا۔ اگلے دن پاسپورٹ آفس سے انھوں نے نئے پاسپورٹ بنوائے، ہیتھرو ایئرپورٹ گئے، اور نئی فلائٹ لی۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ کروز نکلنے سے پہلے بروقت سنگاپور پہنچ گئے۔

سیویگر پانچ ماہ گزر جانے کے بعد بھی کہتے ہیں کہ وہ اداس ہیں۔ ’یہ ایک بہت برا تجربہ تھا۔ ہم نے دو سالوں تک اس ٹرپ کی منصوبہ بندی کی تھی۔ یہ انتہائی گھناؤنا جرم ہے۔‘

’لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے‘

شمالی لندن کے رہائشی کی بغیر چابی والی مرسڈیز سی 220 کو گزشتہ سال نومبر میں ان کے گھر کے باہر سے چرا لیا گیا تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میری چابی میں کی لیس انٹری سسٹم تھا، اور میری چابیاں گھر کے دروازے تک کے قریب نہیں تھیں۔‘

گاڑی اب تک تلاش نہیں کی جا سکی ہے اور مرسڈیز نے اب تک نہیں وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ کیسے ہوا۔

انھوں نے کہا کہ: ’مجھے مرسڈیز نے بتایا تھا کہ اگر میں گاڑی لاک کرتے وقت چابی کو دو مرتبہ دباؤں تو میری گاڑی محفوظ رہے گی کیونکہ پھر چابی ٹرانسمٹ نہیں کرتی۔ میں ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا۔ مجھے اس فنکشن کے بارے میں معلوم تھا۔ اس دن چابیاں میرے گھر کی تیسری منزل پر پر پچھلے حصے میں پڑی تھیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ:’گاڑیں بنانے والی کمپنیاں لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کر رہی ہیں کہ گاڑیاں پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں۔ میری انشورنس کمپنی نے بتایا کہ اس مہینے میرے ہی علاقے میں 10 سے زائد کی لیس گاڑیاں چرائی گئی تھیں۔‘

کی لیس گاڑیاں کیسے چرائی جاتی ہیں؟

عموماً جوڑے کی صورت میں کام کرنے والے چور کسی گھر کے باہر کھڑی گاڑی کو ہدف بناتے ہیں۔ ایک چور گاڑی کے قریب ایسی ڈیوائس لے کر کھڑا ہوجاتا ہے جو گاڑی سے چابی تک جانے والے سگنل کو بڑھا دیتی ہے۔ دوسرا چور گھر کے پاس ایسی ڈیوائس لے کر کھڑا ہوجاتا ہے جو اس سگنل کو چابی تک ریلے کر دیتی ہے، جس سے سسٹم کو بے وقوف بنا دیا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق ایک مرتبہ جب گاڑی چرا لی جائے تو اس کے پارٹس الگ کر کے فروخت کر دیے جاتے ہیں۔

گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بغیر چابی والی گاڑیوں کی چوری روکنے کے لیے ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہیں جس میں موشن ڈیٹیکشن یعنی حرکت کا پتہ لگانے والی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

واٹ کار؟ ان گاڑیوں میں داخل ہونے میں ناکام رہا جن میں سیکیورٹی کے لیے موشن ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی مگر یہ ٹیکنالوجی اب بھی مارکیٹ میں ہر جگہ دستیاب نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں