Hajj - a great example of unity 59

حج – اتحاد امّت کا عظیم الشان نمونہ

یہ ایک بے ہنگم ہجوم نہیں جو بلامقصد، بلاوجہ، بے سمت، کہیں بھی، منہ اٹھائے چلا جا رہا ہو، بل کہ یہ ایک ایسا منظم اور بامقصد لشکر ہوتا ہے جو فقط رضائے الٰہی کی خاطر، اپنے گھر بار، اپنے دیس، اپنے پیاروں کو چھوڑ کر، سفر کی مشقتیں اٹھا کر، پردیس اور اجنبیت کی سرحدیں عبور کرکے، رنگ و نسل اور زبان کے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر، دیوانہ وار نذرانۂ جان و تن اور قلب و روح کو خالق اکبر کے حضور پیش کرنے کے لیے ایک مرکز اور ایک مقام پر جمع ہوجاتا ہے۔ ایک گھر کا طواف کیا جاتا ہے اور اُس کے والہانہ پھیرے لیے جاتے ہیں۔ ایک عالم ذوق و شوق، جوشِ و سرشاری کی کیفیت طار ی ہوتی ہے۔ آنکھوں سے بہتے اشکوں میں درد دل کی تڑپ مچلتی ہے، سوزِ قلب احساس و اضطراب کی موجوں میں ڈھل جاتا ہے۔ جبینیں سجدہ ریز ہوتی ہیں۔ سر و دل جُھکتے ہیں، عجز و نیاز کی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔

اس جوش عقیدت، اس والہانہ پن کا راز قرآن حکیم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے، مفہوم: ’’اور اس پاک گھر (بیت اﷲ) کا حج کرنا، لوگوں پر (اﷲ کی محبت، عقیدت اور فداکاری میں) فرض کیا گیا ہے۔ اُن پر جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔‘‘

اسلام دین فطرت ہے۔ یہ انسانیت کے لیے خداوندِ کریم کا آخری پیغام اور سب سے بڑا انعام ہے جس کی وضاحت حجۃ الوداع پر نازل ہونے والی اس آیت مبارکہ سے ہوتی ہے، مفہوم: ’’ آج ہم نے تمہارے لیے دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنے انعامات کی انتہا کر دی اور تمہارے لیے طریقِ حیات کے طور پر اسلام ہی کو پسند فرمایا۔‘‘

حج اس دین کامل کا مظہرِ اتم ہے۔ اسلام کی بنیاد عقیدۂ توحید و رسالتؐ ہے جس کا عملی اظہار حج میں یوں ہوتا ہے کہ سب حجاج جہاں بیت اﷲ، منیٰ مزدلفہ اور عرفات میں توحید الہٰی کا پرچم بلند کرتے ہیں، وہیں بارگاہِ محبوب داور، سید و ختم رسل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ میں حاضر ہوکر اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ آپؐ کی نبوت و رسالت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

ایک طرح سے دیکھا جائے تو بارگاہِ نبوت کی یہ حاضری اہل اسلام کے عقیدۂ ختم نبوت کا برملا اظہار بھی ہے کہ اﷲ کے گھر کی حاضری کے علاوہ صرف مدینہ پاک کی حاضری ہی امت پر واجب کی گئی ہے اور حدیث پاک میں یہاں تک ارشاد ہوا، مفہوم: ’’ جس نے حج و عمر ہ کیا اور میری زیارت کو نہ آیا اُس نے مجھ سے جفا کی۔‘‘ اگرچہ متعدد انبیائے کرامؑ کے مدفن دنیا میں موجود ہیں مگر اُن کی زیارت کی تاکید نہیں گئی جب کہ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ اقدس کی حاضری کو نہ صرف واجب قرار دیا گیا، بل کہ اُس سے برکاتِ کثیرہ کے حصول کی خوش خبری بھی سنائی گئی۔ منجملہ دیگر گراں قدر انعامات کے سرکار رسالت مآب ﷺ کا یہ وعدہ ’’جس کسی نے ارادہ کرکے میری قبر کی زیارت کی اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔‘‘ تو اس شخص سے بڑھ کر خوش نصیب اور کون ہوگا جس کی شفاعت لازماً آقائے دو جہاں شافع روزِ محشرؐ فرمائیں۔

حج میں عقیدۂ توحید و رسالت کا اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب ہی نہیں بل کہ جسم و جاں کی تمام تر قوتوں، استعداد اور صلاحیتوں کے ساتھ آدابِ بندگی کی ادائی بھی ہے، رکوع و سجود اور قیام و قعود بھی، وضو اور غسل بھی، انفاق فی سبیل اﷲ بھی، ہجرت کے سفر کی پیروی بھی اور جہاد بالنفس، جہاد بالمال اور جہاد باللسان بھی ہے۔

’’حاضر ہوں، حاضر ہوں، اے میرے اﷲ میں حاضر ہوں۔ اے وہ ذات جس کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں، تمام نعمتیں تیری ہیں، تمام بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔‘‘

جب حجاج اور زائرین کوہ و صحرا، دشت و جبل، دریا، سمندر اور ہواؤں میں لبیک لبیک کہتے ہوئے کعبۃ اﷲ کی جانب بڑ ھ رہے ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اﷲ کے حضور حاضری کے لیے بے تاب ہے۔ حاضری اور حضوری کا جو ذوق و شوق اور کیفیات سفرِ حج کے دوران طاری ہوتی ہیں دنیا بھر میں کہیں کسی بھی موقعے پر کسی بھی عبادت کے دوران دیکھنے اور سننے میں نہیں آتیں۔

یہ اسلام اور شارعِ اسلام حضرت رسول الثقلین ﷺ کا فیض اور اعجاز ہے کہ دنیا بھر کے ہر خطے اور ہر ملک، ہر رنگ و نسل کے اور ہر زبان بولنے والے لوگ، ایک ہی لباس، ایک سی وضع قطع میں اور ایک مرکز پر جمع ہوتے ہیں، ایک ہی مقصد لیے اور ایک ہی پکار اپنے ہونٹوں پر سجائے ہوئے۔ لبیک اللھم لبیک۔ یہ یک رنگی، یکسانیت، اتحاد اور یہی یگانگت اسلام کا اصل مقصد اور تعلیمات قرآن و سنت کا اصل مفہوم ہے۔

دورِ حاضر ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور مادہ پرستی کا دور ہے جس میں نفرت، تعصب، انتشار، خون ریزی، جبر و تشدد اور ظلم و ستم کا دور دورہ ہے، رنگ، نسل، زبان اور اقتصادی و گروہی مفادات نے بنی نوع انسان کو تقسیم کر رکھا ہے۔ اس عہدِ ابتلا و آزمائش میں افراد اور قوموں کی نجات ایک ہی مرکز پر جمع ہونے اور اسلامی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنانے سے ہی ممکن ہے جس کے لیے حج کا عظیم اجتماع ایک سنہری موقع پیش کرتا ہے۔ کاش بنی نوعِ انسان اﷲ کے اس آخری پیغام اور اُس کے انعامات کی حکمتیں سمجھ پائے۔ نہ جانے صدائے ابراہیمؑ میں کیا طاقت اور کتنا اخلاص تھا کہ ہر سال اتنے لوگ یہاں حاضر ہوتے ہیں کہ کسی سلطان وقت کے بلاوے پر بھی لوگوں کی اتنی بڑی تعداد جمع ہوئی ہوگی اور نہ ہوسکتی ہے۔

اونٹوں کے دور سے لے کر جہازوں کے زمانے تک زائرین و حجاج کی تعداد ہے کہ برابر بڑھتی چلی جا رہی ہے، دنیا میں کسی بھی جگہ پر انسانوں کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے اور یہ محض اجتماع ہی نہیں ہوتا بل کہ بے شمار روحانی اور معاشرتی خوبیوں اور پہلوؤں کا حامل ہوتا ہے۔ حج کے موقع پر دنیا بھر کے علماء، محققین، سائنس دان، سیاست دان، تاجر، قانون دان اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ جمع ہوتے ہیں تو وہ حج کی ادائی کے ساتھ اپنے ملکی اور عالمی پیچیدہ مسائل پر افہام و تفہیم کرکے ملتِ اسلامیہ کے لیے بہترین لائحہ عمل بھی تجویز کرسکتے ہیں۔ اس لیے کہ حج ایک عالمی اسلامی کانفرنس بھی ہے۔ اتنا بڑا اجتماع کسی قومی فخر کے اظہار اور کسی نسلی عصبیت کے حوالے سے نہیں ہوتا اور نہ ہی وقتی سیاسی سرگرمیوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بل کہ اس عالم گیر اجتماع میں جو شریک ہوتا ہے وہ یہاں زرق برق لباس پہن کر نہیں بل کہ ایک طرح کا کفن اوڑھ کر حاضر ہوتا ہے۔

اس اجتماع میں اپنی شخصی وجاہت کا نہیں ہر لمحہ خطاؤں پر ندامت کا اظہار کیا جاتا ہے، تخت نشین خاک نشین بن کر رہتے ہیں۔ حج کے اجتماع میں جو کچھ نظر آتا ہے اگر یہی کچھ امت کا اجتماعی رویہ بن جائے تو فکری و روحانی اور سیاسی و معاشرتی انقلاب دو قدم کے فاصلے پر رہ جاتا ہے۔ امت اگر ہر قدم پر اسی جذبہ عبودیت سے سرشار ہو جس کا مظاہرہ مطاف کعبہ، کوہ صفا، میدان عرفات اور منیٰ و مزدلفہ میں کیا جاتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت امت کو اپنے دام غلامی میں نہیں پھانس سکتی۔ اسی زرق برق لباس کی بے محابا اور منہ زور خواہش نے عالم اسلام کو تن آسانی کا مریض بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں ہم اپنا من بہت ارزاں گروی رکھنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کفن پر قناعت کرلی جائے تو ذلت سے آدمی کو نجات مل سکتی ہے۔ آج امت کا ایک بڑا روگ شخصی وجاہت کا اظہار ہے جس نے وجود امت کو ریزہ ریزہ اور اسلامی جمعیت و حمیت کو پارہ پارہ کیا ہوا ہے، کسی زمانے میں اسلامی برادریوں کا رنگ الگ لیکن آہنگ ایک تھا۔ جغرافیائی خطے تو تھے مگر دینی رشتے پر استوار، لفظ مختلف تھے مگر معنی مشترک تھے، بول چال اور لہجے میں ضرور اختلاف تھا لیکن چال ڈھال اور رویے میں زبردست اشتراک تھا، حج کے اجتماع میں مختلف رنگوں، زبانوں اور علاقوں کی نمائندگی ہوتی ہے لیکن سبھی ایک ہی رشتۂ بندگی میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں