security-council 52

50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر اجلاس

مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کا معاملہ 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک پہنچ گیا ہے جس کے لیے تاریخی اجلاس آج ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بھارت کی جانب سے یکطرفہ بدلنے کے معاملے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا۔

50 برس بعد مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےایجنڈے پر آنے سے پاکستان کی سفارتی فتح ہوئی ہے جب کہ اجلاس روکنے میں ناکام بھارت کو منہ کی کھانا پڑگئی ہے اور سلامتی کونسل کا اجلاس آج شام 7 بجے ہورہا ہے۔

بند کمرہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں اور ان کو حل کرنے سے متعلق امور پر صلاح مشورے کیے جائیں گے جس کے بعد باقاعدہ اجلاس سے متعلق فیصلے کا امکان ہے۔

اس حوالے سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے سلامتی کونسل اپنی ذمے داری کیسے ادا کرتی ہے۔

اقوام متحدہ میں وزیرخارجہ کا خط پہنچانے والی پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے امید ظاہر کی ہے کہ سلامتی کونسل کشمیر کے مظلوم عوام کی مشکلات کا حل نکال لے گی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے متعلق اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب عبداللہ حسین ہارون کا کہنا ہے کہ کامیابی کا انحصار پاکستان کی تیاری پر بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 برس میں کشمیر کی صورتحال پر پہلی میٹنگ کم سے کم اس بات کا اعتراف ضرور ہے کہ یہ دوطرفہ نہیں عالمی سطح کا تنازع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں