indian-troops-kashmir 84

پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں وادی میں بھارت کے نیم فوجی دستوں کے 38 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کی اطلاعات کے بعد کشمیریوں میں بے چینی اورخوف بڑھا ہے۔

سیاحوں یاتریوں اور طلباء کو مقبوضہ وادی سے چلے جانے کے حکم نامے اور لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کرنے کے پیغامات نے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

یہ افواہ بھی پھیلی ہے کہ بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور علاقے میں بڑی تبدیلی لانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ماضی میں بھی پاکستان نے ایسے کسی بھی اقدام کی سخت مخالفت کی جس میں جموں وکشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے یا عالمی سطح پر مسئلہ جموں وکشمیر کے تنازعے کی نوعیت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ایسا کوئی بھی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور خطے کے امن وسلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہوگا۔

ان حالیہ اقدامات کے علاوہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تازہ ترین بلااشتعال کارروائی میں بھارتی فوج نے آزاد جموں وکشمیر کے شہریوں پر کلسٹر بارود کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک چار سالہ بچے سمیت 2شہری شہید اور 11شدید زخمی ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں