69

پاکستانی نوجوانوں کا برطانیہ کی فضاؤں پر راج

’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز سے ساقی‘، پاکستان کے ہونہار طلبہ نے یہ مقولہ سچ کر دکھایا ہے، آئی میکی عالمی ڈرون مقابلہ میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبہ وطالبات نے فتوحات کے جھنڈے گاڑ دیئے۔

برطانیہ میں ہونے والے مقابلے میں 32 ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے 350 نوجوانوں نے حصہ لیا تھا۔ نسٹ ایئر ورکس کی ٹیم نے ہیلی کاپٹر نما ڈرون تیار کیا جو مقابلے میں شامل واحد ہیلی کاپٹر تھا۔

فاتح ٹیم نے ہم نیوز کی نمائندہ کو بتایا کہ عالمی سطح کے مقابلے میں شرکت کرتے ہوئے تھوڑی بہت گھبراہٹ ضرور تھی لیکن پوری ٹیم پرعزم تھی کہ مقابلہ جیت کر پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ ان کی محنت رنگ لائی اور پاکستان کا جھنڈا ایک بار نہیں بلکہ تین چار مرتبہ بلند کیا گیا۔

پاکستانی ٹیمز میں لڑکیوں کی نمایاں شمولیت

ہونہار طلبہ نے بتایا کہ مقابلے کے لئے نو ماہ سے جدوجہد جاری تھی، ہمارا ڈرون سب سے منفرد تھا اور اس نے کامیابی سے دیا گیا مشن مکمل کیا۔

پاکستانی ٹیم میں کل پندرہ طالب علم تھے اور فخر کی بات یہ بھی ہے کہ ٹیم میں تین نوجوان لڑکیاں بھی شامل تھیں جبکہ دیگر ملکوں کی ٹیموں میں یا تو کوئی لڑکی تھی ہی نہیں یا ان کی تعداد ایک دو سے زیادہ نہیں تھی۔

پاکستانی ٹیم نے دیگر ایوارڈ بھی سمیٹے

سولہ سے اٹھارہ جون تک جاری رہنے والے مقابلہ میں نسٹ کی دو ٹیموں الفا اور بیٹا نے حصہ لیا تھا، فاتح ٹیم بیٹا نے گرین چیمپئن شپ ایوارڈ کے ساتھ ساتھ دیگر پانچ ٹیکنیکل اور میڈیا ایوارڈز بھی حاصل کئے۔

طالب علموں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نوجوانوں کی سرپرستی کرے تو پاکستانی نوجوان ہر شعبہ میں اپنا لوہا منواسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں