tik-tok 41

ٹک ٹاک کے خلاف برطانیہ میں تحقیقات کا آغاز

چین کی جانب سے متعارف کرائی گئی سوشل میڈیا کی ویڈیو ایپلیکیشن اور اس میں موجود پیغام رسانی کے فیچر کے خلاف برطانیہ کے انفارمیشن کمشنر نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

بٹ ڈانس بیجینگ کی جانب سے تخلیق کردہ اس ویڈیو ایپلیکیشن میں صارف محض 15 سیکنڈ کی ویڈیو اپلوڈ کر سکتا ہے۔

موبائل کے ’نشے‘ سے نجات دلانے والا بورنگ فون مارکیٹ میں آ گیا
ٹی ٹک صارف کو اپلوڈ کی گئی ویڈیو میں فلٹرز اور خاص قسم کے افیکٹس فراہم کرتا ہے۔

اس ایپلیکیشن کے حوالے سے ایک تاثر قائم ہوتا جا رہا ہے کہ اس کی ویڈیوز بچوں پر برے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

انفارمیشن کمشنر الیزبتھ ڈینہیم نے ڈیجیٹل، ثقافت، میڈیا اور کھیل کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ وہ ٹک ٹاک کے حوالے سے بچوں کے لیے ٹرانسپرینسی ٹولز اور اس ایپلیکشن پر بچے کس طرح کی ویڈیوز دیکھ رہے ہیں اور ڈاؤنلوڈ کر رہے ہیں کا معائنہ کر رہی ہیں۔

محض مارچ کے مہینے میں ٹک ٹاک 10 کروڑ سے زائد بار ڈاؤنلوڈ ہوئی ہے، جس کے اس وقت 5 کروڑ سے زائد ایکٹیو صارف موجود ہیں۔

فروری کے مہینے میں 13 سال سے کم عمر بچوں کی معلومات اکھٹی کرنے کے جرم میں امریکہ کی وفاقی تجارتی کمیشن (ایف ٹی سی) نے ٹی ٹاک پر 57 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں