Indian-forces-kashmir 94

لہو لہو کشمیر اورطوفان بدتمیزی

مصنفہ: ممتاز ملک

اس وقت پاکستان میں سائلنسرز نکال کر بھدی آوازوں میں گا گا کر خود کو سب سے
بڑا پاکستانی ثابت کرنے والے جوانوں
کشمیر پاکستان کی وہی شہہ رگ ہے جس پر بھارت نام کے گیدڑ نے اپنے دانت گاڑ
رکھے ہیں ۔کشمیر کے عورتوں کی عزتیں ہندوں دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں ، کشمیری
بچے ماوں کی گود سے چھین کر ہندو دہشتگروں کی بندوق کی گولی کھا رہے ہیں ،
کشمیری جوان اور بوڑھے پاکستان کے اس جھنڈے کو اپنے مردہ جسموں لیکن زندہ
روحوں پر کفن بنا کر پہن رہے ہیں جسے لہراتے ہوئے تمہیں بھونڈے ڈانس اور
واہیات بھوں بھوں بجاتے ہوئے ذرا بھر حیا نہیں آتی۔
ملک پر لہراتے خطرات تم سے ذمہ داری کا تقاضا کرتے ہیں نہ کہ بھونڈے پن اور
گھٹیا حرکات کا ۔
دشمن کو بتاو کہ ہم جاگ رہے ۔ یہ مت بتاو کہ ہم ناچ رہے ہیں ۔
جو قومیں اپنی غیرت پر تماچا برداشت کر لیتی ہیں ۔ انہیں پھر تماچے کھانے کا
عادی ہونا پڑتا ہے ۔
اس وقت 13 اگست کی رات سے شروع ہونے والا طوفان بدتمیزی عروج پر ہے ۔ نہ کوئی
سڑک پر اپنے گھر کی کسی خاتون کیساتھ نکل سکتا ہے ۔ نہ کوئی بیمار کسی ہسپتال
تک پہنچایا جا سکتا ۔ نہ کوئی اپنے گھر جانے والا اپنے گھر پہنچ سکتا ہے ۔ وجہ
سڑکوں پر بے قابو جوانوں کی ہلڑ بازیاں ، بدتمیزیاں ، اور بدمعاشیاں ۔ لگتا ہے
آج انہوں نے ہر تمیز تہذیب سے آزادی حاصل کر لی ہے اور انہیں انہیں کے والدین
کے اندھے مال نے بے غیرتی و بے حیائی لائسنس جاری کر رکھا ہے ۔ ان والدین کو
یہ کون سمجھائے کہ طوفان پالنے والےسب سے پہلے اس طوفان کی نذر ہو جایا کرتے
ہیں ۔
جوانوں کو پیروں کا استاد ہونا تھا لیکن یہاں تو جوانوں نے پیروں کی نیندیں
حرام کر رکھی ہیں ۔ زندہ قومیں اپنی آزادی کے دن بھرپور وعدے وعید اور خود
احتسابی کیساتھ منایا کرتی ہیں ۔ اپنی غکطیوں سے سیکھتی ہیں اور اپنے اگلی کل
کے لیئے بہترین منصوبہ بندی کیا کرتی ہیں ۔
لیکن باجے بھوں بھوں ، بے تحاشا فائرنگ ، اونچے اونچے میوزک ٹریک لگا کر اپنے
ارد گرد کے لوگوں کی نیندیں اجاڑ کر آپ کو یہ تک یاد نہیں رہا کہ جہاں دوسرے
کی تکلیف شروع ہوتے ہیں وہاں آل کی آزادی کی حد ختم ہو جاتی ہے ۔ ہو سکتا ہے
آپ کے پڑوس میں کوئی بیمار ہو ، کوئی طالبعلم مطالعہ کر رہا ہو ، کوئی بزرگ
آرام کر رہے ہوں کوئی بچہ سو رہا ہو ۔ لیکن آپ کا یہ طوفان بدتمیزی ان کے دل
سے آپ کے لیئے ایسی بدعا نکلنے کا باعث بن جائے کہ آپ ساری عمر اس کے حصار سے
نہ نکل سکیں۔
اپنے ملک کی سلامتی اور کشمیر کی آذادی اور کشمیریوں کی سلامتی کے لیئے اپنا
کردار ادا کیجیئے۔ کشمیر لہو لہو ہے ۔ اس کی آواز پر لبیک کہیئے۔ دنیا کو بتا
دیجیئے کہ زندہ قومیں اپنی عزتوں کی حفاظت کرنا جانتی ہیں ۔

نوٹ: دا ریڈر اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں