hazrat-usman 71

شہیدِ مظلوم سیّدنا عثمان غنی ذوالنورینؓ

حضور اکرمؐ نے فرمایا: ’’ہر نبی کے کچھ رفیق ہوتے ہیں، میرے رفیقِ جنّت عثمانؓ ہیں۔‘‘

ایک مرتبہ نبی اکرمؐ، سیّدنا ابوبکر صدیق، سیّدنا عمر فاروق اور سیّدنا عثمان ذوالنورین رضوان اللہ علیہم اجمعین احد پہاڑ پر چڑھ رہے تھے کہ پہاڑ ہلنے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احد! رک جا! اس وقت تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ ( بخاری)

سفیدی مائل زرد رنگت کے سفید ریش بزرگ اپنے مکان کے دریچے پر کھڑے ہوئے تھے۔ بزرگ کا چہرہ پُرنور اور زلفیں کاندھوں تک آئی ہوئی تھیں اور وہ اپنے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے باغیوں سے انتہائی مشفقانہ انداز میں فرما رہے تھے:

’’میری دس خصال میرا رب ہی جانتا ہے مگر تم لوگ آج ان کا لحاظ نہیں کر رہے۔ میں اسلام لانے میں چوتھا ہوں۔ رسول اکرمؐ نے اپنی صاحب زادی میرے نکاح میں دی۔ جب پہلی صاحب زادی فوت ہوئی تو دوسری میرے نکاح میں دے دی۔ میں نے پوری زندگی کبھی گانا نہیں سنا۔ میں نے کبھی بُرائی کی خواہش نہیں کی۔ جس ہاتھ سے حضورؐ کی بیعت کی اس ہاتھ کو آج تک نجاست سے دور رکھا۔ میں نے جب سے اسلام قبول کیا کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرا کہ میں نے کوئی غلام آزاد نہ کیا ہو، اگر کسی جمعے کو میرے پاس غلام نہیں تھا تو میں نے اس کی قضا کی۔ زمانۂ جاہلیت اور حالت اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا۔ میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ میں نے نبی ﷺ کے زمانے میں ہی پورا قرآن حفظ کرلیا تھا۔ اے لوگو! مجھے قتل نہ کرو اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو مجھ سے توبہ کرالو۔ وﷲ! اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر کبھی بھی تم اکٹھے نماز نہ پڑھ سکو گے اور نہ دشمن سے جہاد کرسکو گے، اور تم لوگوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔‘‘

یہ بزرگ تیسرے خلیفۂ راشد، سیّدنا عثمان ذوالنورینؓ تھے۔ آپؓ خاندان بنو امیہ سے تھے۔ سیدنا عثمان بن عفانؓ کاتب وحی بھی تھے اور ناشر و حافظ قرآن بھی۔ آپؓ، نبی اکرمؐ پر ایمان لانے والے چوتھے فرد تھے۔ سیّدنا عثمانؓ نبی کریمؐ کے دہرے داماد تھے۔ نبی اکرمؐ کی چار بیٹیاں تھیں۔

نبیٔ رحمت ﷺ کی دوسری بیٹی سیّدہ رقیہؓ کا نکاح سیّدنا عثمانؓ سے ہوا۔ سیّدہ رقیہؓ سے سیّدنا عثمانؓ کے فرزند حضرت عبداللہ ؓ پیدا ہوئے اور انہی عبداللہ ؓ کے نام پر سیّدنا عثمانؓ کی کنیت ’’ابُو عبداللہ‘‘ تھی۔ مروج الذہب کے مطابق ان عبداللہ ؓ بن عثمانؓ کا انتقال 76سال کی عمر میں ہوا۔ غزوۂ بدر کے موقع پر سیّدنا عثمانؓ، نبی اکرمؐ کے حکم سے سیّدہ رقیہؓ جو کہ اس وقت بستر علالت پر تھیں، کی تیمارداری کے لیے رک گئے اور غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے۔ مگر بہ قول نبی کریمؐ، سیّدنا عثمانؓ کو اصحاب ِبدر کے مثل درجہ عطا ہوا۔ سیّدہ رقیہؓ کے انتقال پرُملال کے بعد نبی اکرمؐ نے اپنی بیٹی، سیّدہ ام کلثومؓ کا نکاح سیّدنا عثمانؓ سے کر دیا۔ جب وہ بھی وفات پاگئیں تو نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں اسی طرح ایک کے بعد ایک، عثمان کے نکاح میں دیتا جاتا۔‘‘ خیال رہے کہ حضرت عثمانؓ وہ واحد ہستی ہیں جن کے نکاح میں کسی پیغمبر کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آئی ہوں۔ اس صفت میں سیّدنا عثمانؓ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے سیّدنا عثمانؓ کا لقب ’’ذوالنورین‘‘ یعنی ’’دو نوروں (روشنیوں) والا‘‘ ہے۔

سیدنا عثمان ذوالنورینؓ 12 سال تک امت ِمسلمہ کے خلیفہ رہے اور کئی ممالک فتح کرکے خلافت اسلامیہ میں شامل کیے۔ آذر بائیجان، آرمینیا، ہمدان کے علاقوں میں بغاوت ہوئی، جس کا قلع قمع امیرالمؤمنین سیّدنا عثمانؓ کی خلافت میں ہی ہوا۔ اور اس بغاوت کا سدباب سیّدنا ابُوبکر صدیقؓ کے دور کی بغاوتوں کے سدباب کی طرح ہی اہم تھا۔ مزید یہ کہ ایران کے جو علاقے مثلاً بیہق، نیشاپور، شیراز، طوس، خراسان وغیرہ بھی خلافت عثمانی میں ہی فتح ہوئے اور قیصر روم بھی آپؓ کے دور میں ہی واصل نار ہوا۔ سیّدنا عثمانؓ کے دور خلافت میں ہی بحری جہاد کا آغاز ہوا۔ بحری جہاد کی ابتدا کرنے والے لشکر کے لیے جنت کی خوش خبری نبی کریم ﷺ اپنی لسان مبارکہ سے ارشاد فرما چکے تھے۔ سیّدنا عثمانؓ شرم و حیا اور جُود و سخا کے پیکر تھے۔

آپ ؓ نے کبھی زنا نہیں کیا اور نہ ہی کبھی شراب نوشی کی۔ آپؓ انتہائی نرم خُو اور سخی تھے۔ متعدد مرتبہ نادار اور مجبور مسلمانوں کے لیے اپنا مال بغیر کسی قیمت کے فی سبیل اللہ خرچ کیا۔ اور کئی دفعہ جہاد کے لیے مالی طور پر نبی کریمؐ کی خدمت میں مال و زر پیش کیا۔ ایک مرتبہ نبیؐ کی پنڈلی مبارک سے کپڑا نسبتاً زیادہ اوپر اٹھا ہوا تھا، اسی اثنا میں علم ہوا کہ سیدنا عثمانؓ چلے آرہے ہیں تو رسول کریمؐ نے انتہائی عجلت میں کپڑا نیچے کر دیا۔ سیّدنا عثمان ؓ کے جانے کے بعد ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے اس ضمن میں استفسار فرمایا تو آنحضور ﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا: کیا میں اُس سے حیا نہ کروں جس سے آسمان کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

صلح حدیبیہ کے سال نبی کریمؐ اپنے صحابہ کرامؓ کی معیت میں عمرے کے ارادے سے جانب مکہ عازم سفر ہوئے، مگر معلوم ہوا کہ کفار مکہ آپؐ اور صحابہ کرامؓ کے عمرہ ادا کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تو آپؐ نے سیدنا عثمانؓ کو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ جہاں کفار نے سیدنا عثمانؓ کی شہادت کی افواہ اڑا دی۔ اس پر حضور اکرم ﷺ کو انتہائی رنج و قلق ہوا اور آپؐ نے سیّدنا عثمانؓ کے قتل ناحق کا بدلہ لینے کے لیے اپنے ساتھ موجود تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ سے فردا فردا بیعت لی، اسے بیعت رضوان کہا جاتا ہے۔ بیعت ِرضوان کے موقع پر نبی کریمؐ نے اپنے دست ِمبارک کو سیّدنا عثمانؓ کا دست مبارک قرار دیتے ہوئے اُن کی طرف سے بیعت کی۔ اس موقع پر اللہتعالیٰ نے سیّدنا عثمان ؓ کی بہ دولت تقریباً ڈیڑھ ہزار مسلمانوں سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔

نبی کریمؐ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا تھا کہ اللہ آپ کو ایک قمیض پہنائے گا (یعنی خلافت عطا فرمائے گا) لوگ چاہیں گے کہ آ پ وہ قمیض اتار دیں (یعنی خلافت سے دست بردار ہو جائیں) اگر آپ لوگوں کی وجہ سے اس سے دست بردار ہوئے تو آپ کو جنّت کی خوش بُو بھی نہیں ملے گی۔ یہی وجہ تھی کہ سیّدنا عثمانؓ باغیوں کے پرُزور مطالبے کے باوجود بھی منصب ِخلافت سے دست بردار نہ ہوئے اور اپنے راہ بر و راہ نما ﷺ کے حکم پر جان نچھاور کردی۔ باغیوں کے محاصرہ کے دوران آپؓ نے اپنے گھر کے دریچے سے ظاہر ہوکر ان عاقبت نااندیش باغیوں کو تنبیہ کی۔ مگر اُن کی عقل ماؤف اور ضمیر مردہ ہو چکے تھے۔ اسی سازش کے نتیجے میں خلیفۂ وقت سیّدنا عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کرلیا گیا اور وہ بھی ایسے وقت میں کہ اکثر صحابہ کرامؓ اور عام مسلمان بہ غرض حج مکہ مکرمہ میں تھے۔

سیّدنا عثمانؓ کو خلافت سے دست بردار ہونے کو کہا گیا مگر بہ حکم نبویؐ آپؓ نے یہ مطالبہ رَد کر دیا۔ اور چالیس دن بھوکے پیاسے روزے کی حالت میں ان باغیوں کے محاصرہ میں اپنے گھر میں ہی مقید رہے۔ دن رات نماز و تلاوت قرآن میں مشغول رہے۔ اور بالآخر 18ذی الحج، 35ہجری کو دوران تلاوت شہید کر دیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں