49

سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے خلاف آشیانہ اقبال کیس کی سماعت

قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی اور سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے خلاف آشیانہ اقبال کیس کی احتساب عدالت میں سماعت جاری ہے۔

لاہور کی احتساب عدالت کے جج جوادالحسن کیس کی سماعت کررہے ہیں۔

عدالت نے سماعت کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف سمیت دیگر ملزمان کو آج پیش ہونےکا حکم دیا تھا ،سابق وزیراعلی شہباز شریف عدالت میں پیش ہوچکے ہیں۔

سابق پرنسپل سیکریٹری فوادحسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیاہے۔

نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے تفتیشی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔

شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ ان کی  کمر میں تکلیف ہے وہ زیادہ دیر نہیں رُک سکتے ، شہباز شرہف کی جانب سے حاضری لگائے جانے کے بعد  واپس جانے کی استدعا کردی ۔

عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ میاں صاحب آپ بیٹھیں پھر دیکھتے ہیں۔

قاضی مصباح الحسن ایڈووکیٹ نےاپنے دلائل میں کہا کہ اس کیس میں جو اصول اپنایا گیا ہے اس کے تحت نیب کو مزید کیس بنانا پڑیں گے۔

احتساب عدالت کے جج نے قاضی مصباح کو مخاطب کرکے کہا کہ آپکو کم از کم اللہ پر یقین ہونا چاہئے، کیا آپکو یقین ہے؟

قاضی مصبا ح نے جواب دیا جی اللہ پر ایمان اور یقین کامل ہے۔

جج نعیم ارشد نے کہا کہ تو ہم سب اللہ کے ہی بندے ہیں اس لئے تسلی رکھیں۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے  گواہ سدرہ منصور پر جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپکو ریکارڈ پیش کرنے کا کس نے کہا تھا؟

گواہ سدرہ منصور نے جواب دیا ایس ای سی پی کے انچارج کمپنیز رجسٹریشن لیاقت علی ڈولا کی ہدایت پر ریکارڈ پیش کیا۔

امجد پرویز نے سوال کیا کہ کیا آپ کے انچارج نے آپ کو تحریری طور پر کوئی ہدایت نامہ جاری کیا؟

گواہ سدرہ منصور نے جواب دیا مجھے میرے انچارج لیاقت علی ڈولا نے زبانی طور پر ہدایت کی تھی اور وہی ریکارڈ نیب کو پیش کیا جو عدالت میں پیش کر دیا ہے۔

شہبازشریف کمرہ عدالت میں کرسی سے اٹھ کر ایک بار پھر روسٹرم پر عدالت سے واپس جانے کی اجازت لینے پہنچ گئے۔

شہبازشریف نے عدالت سے  استدعا کی کہ میں جانا چاہتا ہوں کیونکہ میری کمر میں تکلیف ہے اس لیے زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جی ابھی آپ بیٹھئے، ابھی آپکی ضرورت ہے۔

آشیانہ اقبال کیس میں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے اور ان پر جرح کی جائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں