kashmir-earth-paradise 37

جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

مصنفہ: جویریہ شفاعت

جمہوریت کی تمام قدروں کو پامال کرکے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر کر مودی سرکار  نے  بالآخر یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوۓ آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا ۔،۔۔۔۔ یہ آرٹیکل جسے ختم کر کے بھارت  نت نئ  تاویلات گھڑ رہا ہے  وہ کشمیریوں کے لئیے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہو سکتیں ۔۔۔۔کشمیریوں کے لئیے نہ کل بھارت کا قبضہ قابل قبول تھا اور نہ آج۔۔۔۔ 
 یہی وجہ ہے کہ مظالم کی انتہا کے باوجود کشمیری جیوے جیوے پاکستان ہم کیا چاہتے آذادی کے نعرے لگاتے رہے ۔۔۔۔ بندوق کی نوک پہ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !وہ لوگ جو وادی میں بھارتی ایجنڈے کے حمایتی تھے  وہ بھی آج بھارت کے اس اقدام پہ سیخ پا ہو چکے ہیں ۔۔۔  ان کی ساتھ  روا رکھے جانے والا سلوک بھارت کے جبری تسلط کو خوب واضح کر رہا ہے۔۔۔۔  کیا  جبری غلامی سے کشمیریوں کی آذادی کی تحریک کو دبایا جا سکتا ہے۔۔۔۔؟؟؟ یا پاکستان سے ان کے تعلق کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔۔۔؟؟؟؟ نہیں ہر گز نہیں۔۔۔۔۔۔۔  
مودی سرکار نے آرٹیکل ختم  کرنے کے بعد وادی کو فوجی چھاؤنی میں میں اسی لئیے تبدیل کیا ہے تاکہ مزاحمت نہ ہو مگر آخر کب ؟؟؟؟؟ ۔۔۔۔ بھارت تقریباً تین سو افراد کو زیرحراست لے  چکا ہے ۔۔۔۔ وادی میں موبائل انٹر نیٹ ٹیلی فون سروس  معطل کرکے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے کاٹ کر الگ تھلگ کرچکا ہے۔۔۔۔۔ کیا اس کے یہ ” اقدامات ” کشمیریوں کے غم و غصے کو کنٹرول کر سکتے ہیں ؟؟؟؟ 
کیا کشمیریوں کوگھروں میں محصور کرکے نسل کشی کرکے انہیں غلامی پہ مجبور کیا جا سکتاہے۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟ 
 مودی سرکاری اگر یہ سمجھتی ہے کہ جبری تسلط  کے ذریعے ، آرٹیکل ختم کرکے ،کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبا سکتی ہے یا قتل وغارت گری سے آذادی کی جدوجہد پہ قابو پایا جا سکتا ہے تو یہ ممکن نہیں ۔۔۔۔۔  پیلٹ گن کا استعمال ہو یا غیر قانونی طور پہ کلسٹر بموں کا استعمال بھارت عالمی قوانین کو روند کر بیہمانہ تشدد  کا ہر حربہ آزما چکا ہے لیکن جدوجہد  آذادی  کی تحریک کو نہیں دبا سکا ۔۔۔بھارت ایک بین الاقوامی سطح پہ تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے کر ہٹ دھرمی کی آخری حد پہ پہنچ چکا ہے مگر بھارت یہ نہ بھولے کہ کشمیر اکیلا نہیں ہے پاکستان کشمیر کے ساتھ ہے ہمارا بچہ بچہ کشمیر کے ساتھ ہے پاکستان  اس مسئلہ کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اٹھاۓ گا۔۔پاکستان نے  قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد  اعلان کیا ہے کہ  وہ انڈیا کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنائے جانے پر اس کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے، دو طرفہ تجارت معطل کر رہا ہے۔۔پاکستان کی جانب سے سمجھوتہ ایکسپریس کو معطل کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ جبکہ چودہ اگست  یوم آذادی کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پہ اور پندرہ اگست کو یوم سیاہ منایا جاۓ گا۔۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللّہ پاکستان کشمیر کے حق کے لئیے ہر حد تک  جاۓ گا اور مودی سرکار کا کشمیر کو فلسطین بنانے کا منصوبہ کبھی پایہ تکمیل پہ نہیں پہنچنے دے گا۔۔۔۔۔۔!!!!  

نوٹ: دا ریڈر اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں